Wednesday, 17 April 2019

Research Proposal (Synopsis) format ریسرچ پرپوزل (اجمالیہ) فارمیٹ

ریسرچ   پرپوزل (اجمالیہ) فارمیٹ برائے  ایجوکیشن / سماجی سائنسز(مقداری تحقیق )
 Research Proposal (Synopsis) format for Education / Social Sciences (Quantitative Research)
 آداب ۔۔
اکثر اداروں میں ریسر چ میں داخلے کےلیے درخواست فارم پرُ کرتے وقت ریسرچ پرپوزل اپلوڈ کرنا ہوتاہے اور انٹرویو کے  وقت امیدواروں  سے خواہش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنا  ریسرچ پرپوزل (Research Proposal)  لے کر انٹرویو میں حاضر ہوں ، اسی طرح مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی (مانو) میں بھی امیدواروں سے یہ خواہش کی جاتی ہے کہ وہ ریسرچ پرپوزل کے ساتھ انٹرویو میں شریک ہوں۔ علاوہ ازیں ریسرچ  (ایم فل /پی ایچ  ڈی)  اور ایم ایڈ کے علاوہ بعض پی جی پروگرام جن میں ڈیزرٹیشن لکھنا ہوتاہے جیسے ایم بی اے اور ایم ایس ڈبلیو وغیرہ  میں داخلے کے بعد  ریسرچ پرپوزل /تحقیقی اجمالیہ (Research Synopsis)  کا پریزینٹیشن ہوتا ہے ۔ انہیں تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے طلبہ کی آسانی اور رہنمائی کے لیے ریسرچ پرپوزل/ اجمالیہ  کا ایک فارمیٹ پیش کیا جارہا ہے امید ہے طلبا کو اس سے آسانی ہوگی اور مستفید ہوں گے۔
انٹرویو میں شریک ہونے والے امیدواروں کا ٹائٹل پیج (Cover Page)  پی ایچ ڈی یا پی جی  پروگرام میں داخلہ لے  چکے طلبا سے تھوڑا مختلف ہوگا۔ جیسے نگراں والاکا لم خالی رہے گا ۔
ریسرچ پرپوزل کی تیاری کے لیےآپ درج ذیل کتابوں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔۔
1-      Best, J, W. (2005). The Research Proposal. Research in Education. New York: Pearson.pp.37-42
2-
3-
(more references will be added shortly)


میں ڈاکٹرمحمد اسلم پرویز(عزت مآب وائس چانسلر ، مانو) صاحب،  پروفیسر شان کاظم نقوی  صاحب اور اپنے نگراں ڈاکٹروناجہ ایم  کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی مشورہ دے کر اس پرپوزل کو بہتر بنانےمیں میری رہنمائی فرمائی ۔


Format of Title Page 

آپ اپنا عنوان لکھیں  جیسے 

اردو زبان میں لکھنے کی صلاحیت پر عملِ رِسائی کا اثر
 Impact of Process Approach on Writing Competency in Urdu Language
 

2012-13
پیش کش : اجمالیہ برائے ایم ایڈ/  پی جی  / پی ایچ ڈی
.Presentation / Submission of Research Synopsis for M.Ed. / PG / Ph.D 

ریسرچ اسکالر
محقق اپنا نام لکھے مثلا جرار احمد
رول نمبر: xxxx
اندراج نمبر: xxxxx

نگراں
 اپنے نگراں کا نام لکھیں مثلا ڈاکٹر وناجہ ایم۔ 
(اسوسی ایٹ پروفیسر)
شعبۂ تعلیم و تربیت
اپنے اسکول / شعبہ اور ادارہ کانام لکھیں جیسے 
اسکول برائے تعلیم و تربیت
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
گچی باؤ لی، حیدرآباد، تلنگانہ
------

( Note: to get the word copy of this, please go through the below link and download the soft copy of M.S. Word file 
Click here to download  PDF File  Word File 


Format of Synopsis 

اردو زبان میں لکھنے کی صلاحیت پر عملِ رِسائی کا اثر
تعارف:Introduction 
ایک سے ڈیڑھ صفحہ میں اپنے عنوان / موضوع / تحقیق کا تعارف لکھیں ۔ 

موضوع کی اہمیت و ضرورت : Need and Significance of the Study 
                آپ کا موضوع کیوں اہم ہے اور اس موضوع پر تحقیق کی  کیوں ضرورت ہے ۔ کس طرح سے آپ کی تحقیق مفید ثابت ہوگی اور منفرد ہوگی ۔ وغیرہ کم سے کم آدھے صفحہ میں لکھیں۔ 

مسئلے کا بیان: Statement of the Problem
یہاں پر صرف اپنی تحقیق کا عنوان نہیں لکھناہے  بلکہ پہلے چار پانچ لائن اس کے بارے میں لکھیں پھر عنوان کو لکھیں۔

متعلقہ مواد کا جائزہ: Review of Related Literature 
               پہلے ایک دو لائن میں بتائیں کہ رویو کیا ہوتاہے اور تحقیق کے لیے کیوں اہم ہے پھر  اپنے موضوع سے متعلق دو تین Study  ریویوکر کے یہاں اس طرح سے لکھیں مثلا
Bharati, S. (2017). نے “Implementation of process Approaches to improve Academic Writing Skills of secondary level students through a teaching Programme in Odisha” کے عنوان سے تحقیق کی، جس کا مقصد عمل رسائی کے ذریعہ ثانوی سطح کے ESLلرنرس کی تحریری مہارت میں بہتری لانا تھا۔  اس تحقیق میں تحقیقی امور کی انجام دہی کے لیے مقداری (Quantitative)  تحقیقی طریقۂ کار کو اپنایا گیا اور اڑیسہ کے ریجنل میڈیم ہائی اسکول کے ثانوی سطح کے 200 طلباکو بطور نمونہ منتخب کیا گیا ۔محقق نے پری ٹیست اور پوسٹ ٹیسٹ کے ذریعہ معطیات جمع کیا ۔
نتیجہ/ حاصل مطالعہ: - (i  اس تحقیق میں یہ پایا گیا کہ ای ایس ایل لرنرس   کی اکادمک تحریری  مہارت میں بہتری لانے کے لیے عمل رسائی ایک بہت ہی بہتراور مؤثر اپروچ ہے ۔(ii اس تحقیق میں یہ بھی پایا گیا اس اپروچ کے ذریعہ   زبان دؤم کے لرنرس  کے درمیان خود اعتمادی پیدا کرنے میں ایک خاص حد تک کامیابی ملی۔
(اخیر میں حوالہ جا ت کے سیکشن میں متعلقہ مواد کے جائزے  کا حوالہ بھی درج کریں)

مطالعہ کے مقاصدObjectives of the Study : 
اپنے مطالعہ کے مقاصد کو اس طرح سے لکھیں کہ اس کے اخیر میں معلوم کرنا / پتہ لگانا وغیرہ آئے جیسے 
1۔لڑکے اور لڑکیوں کی تحریری صلاحیت کے درمیان فرق کو معلوم کرنا۔
2۔
3۔

مطالعہ کے مفروضات  :of the Study Hypotheses
اگر نل مفروضہ ہے تو اخیر میں اس طرح سے لکھیں کہ 'کوئی معنی خیز فرق نہیں پایاجائےگا'۔جیسے 
1۔جنس کی بنیا د پر لڑکے اور لڑکیوں کی تحریری صلاحیت میں کوئی معنی خیز فرق نہیں پایا جائےگا۔
2۔

مطالعہ کےمتغیرات  : Variables of the Study 
اپنے مطالعہ کے متغیرات کو اس طرح لکھیں ۔۔

نمبر شمار
S. No.
آزاد / ڈیموگرافک متغیرات
Independent / Demographic Variables
تابع متغیرات
Dependent Variables
1.
صنف 
Male
Writing Competency in Urdu Language
  1. Attitude towards Urdu Writing Skills
  2. Apprehension towards Urdu Writing
  3. Urdu Writing Skills
Female
2.
ادارے کی نوعیت /قسم
Government
Private
3.
ذریعہ تعلیم 
Urdu
Hindi
English
4.
تعلیمی لیاقت 
+2
UG
5.
Stream of Study at +2 Level
Arts / Humanities
Science
Commerce
 6.



 7.



8. 




کلیدی اصطلاحات کی تفاعلی تعریفOperational definition of key Terms: 
یہاں پر اپنی تحقیق میں استعمال ہوئے کلیدی  الفاظ سے آپ کیا مراد لے رہے ہیں اس کو لکھیے ۔
1۔
2۔

Research Design
تحقیق کا طریقۂ کار Research Methodology : 
آپ جو طریقۂ کار استعمال کریں گے اس کے بارے میں لکھیں  کہ کس طرح سے یہی طریقۂ کار آپ کی تحقیق کے لیے موزوں ہے وغیرہ ۔۔

ڈاٹا جمع کرنے کے لیے  آلہ اور تکنیک (Tools and Technique for data Collection)
اگر آلات تحقیق خود بنا رہے ہیں تو لکھیں 
محقق اپنے نگراں کی مدد سے آلہ تیار کرے گا اور اس کی تفصیل لکھیں ۔
اگر کسی اور کا Adopt کررہے ہیں تو اس کی تفصیل لکھیں۔

مطالعہ کی آبادی : Population of the Study 
اپنے مطالعہ کی آبادی لکھیں جیسے 
شعبۂ تعلیم و تربیت مانو کے طلبا
نمونہ اور نمونہ  بندیSample and Sampling: 
اپنی تحقیق کا نمونہ اور نمونہ بندی لکھیں جیسے 
اس مطالعہ میں صرف ڈی ایل ایڈ سیشن 20-2018 کے سیکشن اے اور بی کے طلبا شامل کو شامل کیا جائے گا۔ 
موجودہ مطالعہ میں نمونہ بندی سادہ اتفاقی نمونہ بندی(Simple Random Sampling)تکنیک کے ذریعہ کی جائے گی۔

ڈیٹا کے تجزیہ کے لیے شماریاتی تکنیک : Statistical Technique for Data Analysis 
اپنی تحقیق میں استعمال ہونے والی تکنیک کو لکھیں جیسے 
مواد کا تجزیہ کرنے کے لئے محقق درج ذیل شماریاتی تکنیک کا استعمال کرے گا۔
 (i)اوسط( Mean )
(ii)معیاری انحراف(Standard Deviation)
(iii)ٹی ٹسٹ (T-test)
(آپ جو بھی استعمال کریں اسے لکھیں)

مطالعہ کی تحدیداتDelimitation of the Study : 
اپنے مطالعے کی تحدیدات کو لکھیں مثلا
1۔یہ تحقیق صرف شعبۂ تعلیم و تربیت مانو کے ڈی ایل ایڈ سیشن 20-2018 کے طلبا تک محدود ہے ۔
2۔
3۔

 بجٹ  :  Budget 
زیر نظر مطالعہ میں تقریبا4000/5000تک کا خرچ آئےگا۔یا پھر آپ کی تحقیق میں جتنا خرچ آئے گا اس کا تخمینہ کر کے لکھیں۔

وقت Time Framework : 
آپ کی تحقیق میں کتنا وقت لگے گا اندازہ کرکے  اسے لکھیں جیسے اس مطالعہ میں تقریبا دو سمسٹر/ تین سال  کا وقت لگ سکتاہے۔

متوقع ماحصل  : Expected Outcome
اپنے مطالعے کے ماحصل کو یہاں لکھیں مثلا
        اس مطالعہ سے ہمیں پتہ چلےگا کہ:
       i.            پروسیس اپروچ کے ذریعہ طلبا کی تحریری صلاحیت میں بہتری لائی جا سکتی ہے کہ نہیں
    ii.             اردو لکھنے اور لکھنا پڑھانے والوں کے لیے مفید ثابت ہوگی کہ کس طرح سے اردو تحریر کی صلاحیت میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔

حوالہ جاتReferences : 
اپنی تحقیق کے حوالوں کو یہاں لکھیں۔ جیسے 
نوٹ : اکثر طلبا حوالہ جات کے لکھنے میں  غفلت برتتے ہیں جو کہ نہایت ہی مضر ہے ۔ حوالہ جات APA Style میں اس طرح تحریر کریں کہ کوئی کاما ، ڈاٹ وغیرہ بھی نہ چھوٹنے پائے ۔ اوپر جو ہم نے ریویو پیش کیا ہے اب اس کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں ۔
Bharati, S. (2017). Implementation of process Approaches to improve Academic Writing Skills of secondary level students through a teaching Programme in Odisha., as retrieved from http://www.iosrjournals.org/iosr-jhss/papers/Vol.%2022%20Issue7/Version-8/D2207081822.pdf   on 22 Jan 2018.

Updated as on 18/04/2019


اگر اس میں کچھ خامی/ کمی  ہو توکمینٹ کے ذریعہ  نشاندہی فرمائیں ۔ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔
یہ ہماری ادنی سی کاوش ہے  اس میں بہتری کے لیے آپ کے مشوروں کا بھی  منتظر رہوں گا۔
طالبِ دعا
Research Scholar
Dept. of Education
9618783492

Click to Subscribe My YouTube Channel

Read My Papers

 آپ کا بے حد شکریہ ۔!
Thank you..

This Page is Dedicated to..



 حوصلہ افزائی یا بہتری کے لیے تبصرہ ضرور کریں۔
Comment for Improvement or Motivation   Please 

Sunday, 20 May 2018

اچھے ماحول کی برکتیں

اچھے ماحول کی برکتیں

نوٹ: یہ مضمون بچوں کی دنیا شمارہ اپریل2018 میں شائع ہو چکا ہے

پیارے بچوں۔! آج ہم آپ کو اچھے ماحول کی برکتوں میں سے ایک بڑی اچھی اور پیاری برکت کے بارے میں بتائیں گے۔
ایک شہر میں ایک ایسا گھر تھا جو کل چھ ۶ افراد پر مشتمل تھا، جو نہ بہت غریب اور نہ بہت امیر بلکہ اس گھر کے لوگ بیچ کی زندگی بسر کررہے تھے۔ اس گھر کے سربراہ اکثر بیمار رہا کرتے تھے ۔ ان میں سے ایک کا اچانک کسی بیماری کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔شاید اللہ کی یہی مرضی تھی، کیوں کہ گھر والوں نے علاج میں کوئی کسر باقی نہیں لگائی تھی۔ اب ان کی اہلیہ اکیلی ہوگئی تھیں اور وہ بھی بیمار رہا کرتی تھیں، ان کے علاج کے لیے بھی گھر والوں نے سب کچھ کیا دوا ،دعا، تعویذ گنڈا مگر بیماری تھی کی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ گھر والے علاج سے صرف اس لیے مطمئن تھے کی ان کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جارہی ہے اور ان کو اس بات کا فخر بھی تھا کہ ہم نے علاج میں کوئی کمی نہیں کی ۔ بس پریشانی اس بات کی تھی کہ مرض کی تشخیص نہیں ہو پارہی تھی۔ کوئی ڈاکٹر کچھ کہتا تو کوئی کچھ اور سب ڈاکٹر اپنے اپنے حساب سے اندھیرے اور اجالے میں اپنی دواؤو ں کے تیر چلادیتے تھے۔
بالآخر عاجز آکر ایک دن اس گھر کے لوگ ایک بزرگ حکیم کے پاس گئے اور تمام تفصیلات دست بستہ ان کو سناکر پوچھا آخر کون سی بیماری ہے کہ پتہ نہیں چل پا رہاہے اور کوئی بھی دوا کام نہیں کررہی ہے؟ وہ بزرگ مسکرائے اور بولے دوا تو کسی حدتک سب ٹھیک ہی چل رہی ہے مگر بیماری ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے۔ دوا تین وقت کھاتی ہیں مگر بیماری ہر وقت ان کو ڈنک ماررہی ہوتی ہے ۔ اتنا کہہ کر وہ بزرگ حکیم خاموش ہوگئے ۔ بڑی منت سماجت کے بعد بزرگ نے بتایا کہ بیماری تم لوگ خود ہو جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے ہو ۔ کہنے کو تو تم لوگ ان کی آل اولا دہو مگر درحقیقت مرض بن کر اپنے جراثیم ہر وقت ان پر چھڑکتے رہتے ہو ۔اتنا سننا تھا کہ وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے اور بولے کہ کیا بات کرتے ہیں ۔آپ کو شاید پتہ نہیں کہ ان کے علاج میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس بات کے گواہ ہمارے شہر کے لوگ بھی ہیں۔ آپ ہیں کہ نہ جانے کیا الول جلول بات کر رہے ہیں اور سراسر ا لزام ہمیں کو دے رہے ہیں۔ بزرگ حکیم متانت سے مسکراتے ہوئے بولے، یہی غصہ جو تم ابھی مجھ پر دکھار ہے ہو ان کی بیماری کی اصل وجہ ہے ۔ کیا صرف دوا کردینا ہی کافی ہے ؟ کیا صرف دوا سے ہی علاج ہوتاہے؟ کیا یہی والدین کی خدمت ہے ؟ ہرگزنہیں ۔!کتنی بیماریاں تو صرف خوش مزاجی اور اچھے ماحول سے ختم ہوجاتی ہیں ۔ کیا تم لوگوں نے کبھی ان کو خوشگوار ماحول فراہم کیا؟ حکیم کے اس سوال پر سب لوگ محو حیرت تھے ۔ پھر حکیم نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم میں کا ہرکوئی کسی نہ کسی دن اس بات پر ناراض ہوجاتاہے کہ آج اس کے من پسند کا کھانا نہیں پکا؟ یا پھر کھانے میں نمک یا مرچ زیادہ ہوگئی؟کیا یہ جھوٹ ہے کہ گھرمیں تم لوگ ایک دوسرے پر چھوٹی چھوٹی بات کے لیے ناراض ہوجاتے ہو؟ سب پر سکتے کا عالم طاری تھا ۔ حکیم صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم سوچتے ہوکہ تم اپنا یہ غصہ تو کھانا بنانے والے پر یا کسی اور پر دکھارہے ہو مگر یاد رکھو والدین پر وہ بھی جب وہ عمررسیدہ ہوجاتے ہیں تو بہت ہی گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کوئی دوا کھاتے ہیں تو اثر نہیں کرتی ہے کیوں کہ تم لوگ ایک دوسرا بکھیڑا کھڑا کردیتے ہو۔ یاد رکھو صرف اچھے سے اچھا علاج کرادینا ہی کافی نہیں ۔ اگر کچھ کرنا چاہ رہے ہو تو دوا کے ساتھ ان کو اچھااور خوشگوار ماحول بھی فراہم کرو۔ ان کی خوشی کے لیے بلکہ ان کے علاج کا ایک حصہ سمجھ کر ان پر کبھی بھی غصہ کیا ’اُف‘تک نہ کہو اور نہ ہی ان کے سامنے کسی اور پر غصہ کرو۔ جہاں تک ہو سکے ان کے سامنے ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہو ، خود خوش رہوگے تو وہ بھی خوش رہیں گے اور اس کے بعد علاج کروگے تو وہ بھی فائدہ مند ہوگا۔ بزر گ کی ان باتوں سے وہ لوگ بہت متأثرہوئے اور اپنے عمل پر تائب بھی ہوئے اور کہا کہ اگر آج آپ نے ہماری آنکھیں نہیں کھولی ہوتیں تو زندگی بھر ہم اسی خوش فہمی میں رہتے اور فخر کرتے کہ ہم نے اچھے سے اچھا علاج کیا اور کوئی کوتاہی نہیں کی ، مگر آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آپ کی بتائی ہوئی تمام باتوں پر عمل کریں گے اور دوا کے ساتھ ساتھ خوشگوار ماحول بھی فراہم کریں گے۔
تو پیارے بچو آپ بھی وعدہ کریں کہ اپنے امی ابو کی باتوں سے ناراض ہوکر کبھی کوئی غلط کام نہیں کریں گے اور نہ ہی ان پر ناراض ہوں گے اور نہ ہی ان کے سامنے کسی اورپر ناراضگی کا اظہار کریں گے بلکہ آپ بھی اپنے گھر کا ماحول خوشگوار بنائیں گے۔یقیناًیہ ایک بہت بڑی اور ایسی نعمت ہے جس کی بے پناہ برکتیں ہیں۔
جراراحمد
ریسر چ اسکالر
شعبۂ تعلیم و تربیت
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی، حیدرآباد
jarrarurb.rs@manuu.edu.in

Thursday, 14 December 2017

اقبال کی شاعرانہ عظمت جرار احمد Poetic Greatness of Allama Iqbal by Jarrar Ahmad

اقبال کی شاعرانہ عظمت
جرار احمد
اقبال کی پیدائش 9؍ نومبر 1877 ؁ء کو سیالکوٹ میں ہوئی ۔ والدین بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے اس کے باوجود بیٹے کی تربیت پر بہت توجہ کی ۔ اپنے وطن میں ہی اقبال نے پرائمری اور اعلی پرائمری تعلیمات حاصل کیں ۔البتہ 1905میں اعلی تعلیم کی خاطر انگلستان کے لئے رخت سفر باندھا۔ 1908میں نئی فکر ، نئی سوچ کے ساتھ واپس اپنے وطن آئے ۔21؍اپریل 1938کو ایک لمبی بیماری کے بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔
اقبال ہماری زبان اردو کے فلسفی شاعر ہیں ، جیسا کہ انہوں نے بارہا اس بات کا اعتراف کیا کہ میں شاعر نہیں ہوں بلکہ میں نے شاعری کو صرف اپنے پیغام کی ترسیل کا ایک ذریعہ بنایا۔اقبال کہتے ہیں کہ ’’ میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا ۔فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی، ہاں ! بعض مقاصد خاص رکھتاہوں جن کے بیان کے لئے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کر لیا ہے ورنہ ۔۔
نہ بینی خیر ازاں مرد فرو دست
کہ برمن تہمت شعرو سخن بست‘‘
اس قول کی تصدیق میں عبدالماجد دریا بادی کہتے ہیں کہ ۔۔’’وہ باوجو د اتنا بڑا مشہور شاعر ہونے کے شاعر نہیں ہے بلکہ اپنے پیام سے مقام نبوت کی جانشینی کا حق ادا کر رہا ہے۔ مبارک ہیں وہ ہستیاں جو اقبال شناس ہو جائیں۔‘‘
عبدالماجد دریابادی کا یہ قول جہاں اس بات کی تائید کر رہاہے کہ اقبال شاعر نہیں تھے وہیں ان کی عظمت کا اعتراف بھی کر رہاہے کہ یقیناًوہ ایک بہت بڑے عظیم شاعر و فلسفی تھے ۔اسی وجہ سے مقام نبوت کی جا نشینی کا جملہ دریابادی نے استعمال کیا جس سے ان کی عظمت اور بڑھ جاتی ہے ۔
اردو کے دوسرے شعرا پرجب ہم نظر ڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اگر چہ ان کی شاعری میں بھی فلسفہ مل جاتا ہے جیسا کہ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ فلسفیانہ عنصر ہوتاہے مگر جو فلسفی ہوتاہے اس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے اسی طرح سے اقبال سے پہلے اور بعد بھی بہت سے ایسے شعراء گذرے اور آئے جن کے یہاں ہمیں جا بجا فلسفیانہ عنصر ملتاہے مگر اقبال چونکہ کی فلسفی تھے اسی لئے اگراس ضمن میں میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ دوسروں کے وہاں جس طرح تھوڑا تھوڑا فلسفیانہ عنصر ملتاہے اسی طرح ٹھیک اس کے برعکس اقبال کے یہاں تھوڑا تھوڑا شاعرانہ عنصر ملتاہے ۔
اقبال کی عظمت اس طرح سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اقبال نے شاعری کو صرف ذریعہ بنایا مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی کہ فن شاعری کو بھی نہایت خوبی کے ساتھ برتا جائے تاکہ شاعری بھونڈی نہ معلوم ہو اسی وجہ سے بعض لوگوں نے کہاکہ اقبال شاعر تھے جا بجا وہ شاعر تھے اور یہ ان کا کمال ان کی عظمت تھی کہ انہوں نے دوفن کو ایک ساتھ برتا یعنی فلسفہ کے ساتھ ساتھ فن شاعری کو بھی انہوں نے نہایت سلیقہ کے ساتھ ساتھ برتا اور یہی وجہ ہے کہ اقبال اپنے پیغام کی ترسیل میں کما حقہ کامیاب ہوئے ۔ اگر وہ شاعری کے فن کو صحیح سے نہ برتتے تو شرفا اور خاص طبقہ تک ان کے پیغام کی ترسیل نہ ہوپاتی اور ان کی شاعری صرف عوام اور جہلاتک محدود رہ جاتی اسی لئے اقبال نے فن کو برتا تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ خواص تک بھی رسائی ہوجائے اور یہی رویہ ،طریقہ شاعری میں بدلاؤ کی وجہ بنا کہ عوام نے اسے پسند کیا اور خواص نے اقبال کے ساتھ اسے اپنی شاعری میں برتاجس کی وجہ سے اقبال کی شاعرانہ عظمت میں چار چاند لگ گیا اور وہ شاعری کے آسمان پر ماہتاب بن کر چمکے ۔چونکہ اقبال ایک پیامی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ پیرایۂ اظہار میں دلکشی نہ ہو تو فلسفہ و پیغام کی طرف کوئی متوجہ ہوتاہی نہیں اسی وجہ سے انہوں نے تمام شعری وسائل کا سہارا لیکر سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
اقبال نے اپنے فلسفہ سے ملت اسلامیہ کے درد کی دوا کی اور ہر لمحہ ہر آن یہی کوشش کی کہ کس طرح سے ملت اسلامیہ کو قعر مذلت کے دلدل سے نکالاجائے اور ان کا کھویا ہوا وقار ، رتبہ جاہ وحشمت واپس لوٹا یا جائے اور وہ اپنی قدرومنزلت اپنے عہدے پر دوبارہ فائز ہوں ۔ یہاں پر یہی فکر ،یہی فلسفہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کے وقار کواور بلند کردیتا ہے کہ ان کے وقت بہت سے دوسرے شعرا تھے جو صرف فن برائے فن یا فن برائے زندگی کے لئے شاعری کررہے تھے مگر اقبال اپنی قوم کی ڈوبتی نیا کو طوفان حوادث سے کنارہ لانے کے لئے کوشاں تھے ۔
دوسرے شعرا نے اپنے وقت ، حالات ، ماحول کو اپنی شاعری میں پیش کیا اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی شاعری کو بدلا مگر اقبال نے عام روش سے ہٹ کر اس کام کو کیا ، انہو ں نے خود وقت، حالات ، ماحول کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کی اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق شاعری کرنے کے بجائے اپنی شاعری کے ذریعہ سے خود ماحول ،وقت اور حالات کو بدلنے کی کامیاب سعی کی۔
جس کی مثال خود ان کا یہ شعر ہے کہ۔۔
نہ ہو ماحول سے مایوس دنیا خود بنا اپنی
نئی آندھی ،نئی کشتی ، نیا طوفان پیداکر
اقبال کا فلسفہ ہمیشہ اسی طرز فکر کے اطراف گھومتارہاہے ۔ اور انہوں نے ہمیشہ اپنے فلسفہ میں یہ پیغام دیا کہ کسی بھی صورت میں تجھے مایوس نہیں ہونا ہے ۔ اگر ماحول تیرے مطابق نہیں ہیں تو نہ ہوں تجھے اس کی فکر بھی نہیں کرنی ہے تو خود اپنے لئے ایک الگ سے اپنا اک نیا ماحول بنا ، جو جو چیزیں تیرے موافق نہیں ہیں وہ وہ چیزیں تو خود اپنے لئے الگ سے نئی بنالے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ خود بہ خود تو دیکھے گا کہ جن چیزوں ، حالات و ماحول کو تونے اپنے لئے بنایا تھا آج وہ پورے عالم پر چھائی ہوئی ہیں۔
اقبال کی شاعری کا ایک خاص وصف یہ بھی تھاکہ وہ اپنے پیغام کو کسی اہم ہستی کے ذریعہ یازبانی ادا کراتے ہیں جس سے ان کے پیغام کی تا ثیر اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ کہیں خضر کی زبان ،کہیں جبریل کی تو کہیں لینن کی ،کہیں سر سید کی تو کہیں خالق کائنات کی زبانی اپنے پیغام کی ترسیل کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔ان ہستیوں کے ذریعہ اپنے پیغام کی ترسیل اس لئے کرتے ہیں تاکہ نہایت ہی مؤثر طریقہ سے پیغام کی ترسیل ہو اور ہر کس و ناکس کے دل میں ان کا پیغام گھر کر جائے اور لوگ خواب غفلت سے بیدار ہو کر عمل کی کوشش کی طرف گامزن ہو جائیں کیونکہ عمل سے ہی دین بھی ہے اور دنیا بھی۔
ان کی شاعری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کی غزلوں اور نظموں کو بڑی خوش آہنگی کے ساتھ گایا جا سکتاہے اور سننے والے اس سے کچھ زیادہ ہی محظوظ ہوتے ہیں کیونکہ اقبال کے کلام میں ترنم بہت زیادہ ہے۔اقبال نے بحروں کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے اور لفظو ں کے انتخا ب میں بھی انہوں نے بہت ہنر مندی کا ثبوت دیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ خواص کے ساتھ ساتھ عوام الناس نے بھی اقبال کو خوب سراہااور ان کی نظموں اور غزلوں کو گایاجس نے ا ن کی عظمت کو اور بڑھادیا۔
اقبال صرف ایک جگہ ،ایک مقام ،ایک ملک کے شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک ملی شاعر تھے ان کا پیغام آفاقی تھا، ان کا فلسفہ پوری دنیا کی فلاح کے لئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہے کبھی وہ بچوں کے لئے قومی گیت، نیاشوالہ وغیرہ تخلیق کر تے ہیں تو کبھی ترانۂ ملی لکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اقبال کی شہرت کا دارو مدار ان کی طویل نظموں پر ہے جن میں ان کا خاص رنگ خاص فکر اور تخیل پایا جاتاہے ۔ انہیں نظموں میں اقبال نے اپنے خاص شاعرانہ فن کے جوہر کی نمائش کی ہے اور فلسفہ و تصوف حب وطن کے جذبات کے ساتھ ان میں بہترین شستہ و رفتہ زبان، سلاست بیان ، زور تخیل ،جذب و اثر اور نئے نئے استعارے ، تشبیہیں پائی جاتی ہیں۔ ’’ہمالہ‘‘ ’’خضر راہ‘‘ ’’شمع وشاعر‘‘ شکوہ‘‘ کا تعلق اسی صنف سے ہے۔ یہ تمام نظمیں رسمی اور معمولی نہیں ہیں بلکہ یہ غیرمعمولی حیثیت کی حامل ہیں جس میں اقبال نے اپنے فن کے جوہر رسم و روایت سے ہٹ کر دکھائے ہیں ۔اور یہ سچے جذبات کا صاف و شفاف آئینہ اور طرز بیان اور بلندی خیال کا بہترین نمونہ ہیں اور ساتھ ہی اقبال کی شاعرانہ عظمت کی اعلی مثالب بھی ہیں ۔
جب تک اقبال ملی شاعری نہیں کررہے تھے تو اقبال کی فکر اقبال کا فلسفہ حب وطن کے جذبہ سے سر شار تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ ۔۔
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
جب اقبال انگلستان سے لوٹے تو جذبہ وطنیت مدھم پڑ گیا تھا اور اب ان کے اندر جو جذبہ تھا وہ محدود نہیں تھا بلکہ لا محدود تھا اور یہ جذبہ ملی تھا اور جیسے ہی ان کا جذبہ ملی ہو تاہے وہ کہتے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمانو کو اپنے تئیں ایک عظیم الشان زنجیر کی کڑیاں سمجھنا چاہئے قوم و ملک قرب وبعد کے فرضی خیالات دل سے یک قلم نکال دینا چاہئے اور اپنے تئیں ایک برادری سمجھنا چاہئے اس ضمن میں اقبال کہتے ہیں کہ۔۔۔
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی
اس طرح سے اقبال نے بالا اشعار کے ذریعہ سے اپنے ملی جذبے کا اظہار کیا ہے آج کے وقت میں جس کی سب سے اہم ضرورت ہے ہر کوئی اقبال سے لے کر آج تک اس کی ضرورت محسوس کرتا آیا مگرافسوس کہ عمل کرنے کے لئے چندے لوگ بھی آگے نہیں آئے اور نہ ہی کسی نے اقبال کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔مگر پھر بھی اقبال کی عظمت ان معنوں میں باقی ہے کہ جو بات انہوں نے انیسویں صدی میں کہدی تھی آج اس کی معنویت اور زیادہ ہوگئی ہے ۔اور ایک بڑے شاعر کی یہی پہچان ہے کہ وہ حال کے تناظر میں مستقبل کو دیکھ لیتاہے ۔
جو بھی عظیم شاعر ہوتاہے وہ اپنی شاعری زندگی کے حقائق کے سیاق میں عملی شاعری کرتاہے۔ اسی طرح سے اقبال کی شاعری پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ اقبال نے بھی عملی شاعری کی ہے اور وہ اشیاکے عملی پہلو کو کبھی نظر انداز نہیں کرتے ہیں اس کے باوجود کہ ان کے خیالات آسمان کی بلندیوں میں پیماں ہیں مگر وہ بذات خود زمین کی آغوش میں ساکن ہیں ۔ اقبال کو انسانی کمزوریوں کابہت ہی اچھے سے احساس ہے ۔ ان کی دنیا عملی ہے جس میں خوشی و غم ، فرحت و مسرت اور امید و یاس کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اور وہ کبھی اس حقیقت کو نظر انداز کرنا نہیں چاہتے ۔ او ر حقیقت سے روگر دانی نہ کرنا ہی بڑ ے شاعر کی نشانی ہے اور یہ بھی اقبال کی عظمت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔
کوئی بھی موضوع ہو اقبال کی نظر سے وہ دور نہیں ایک معمولی سے جگنو کی داستان سے لیکر دنیا کے بڑے بڑے بکھیڑوں تک پر اقبال نے شاعری کی، کبھی سید کی لوح تربت ، تو کبھی طلبا علی گڑھ کالج کے نام تو کبھی لینن تو کبھی جبریل و ابلیس تو کبھی عقل و دل تو کبھی حب وطن غرض کی ہر جگہ اقبال نے اپنے فکر اور فلسفہ کی چھاپ چھوڑی اور ان کا پیغام اپنے وطن کے لئے بھی تھا اپنی سوتی ہوئی قوم کو جگانے کے لئے بھی اور ان کو حرکت میں لانے کے لئے بھی تھا ۔اس ضمن میں سرطامس آرنلڈ ، برطانیہ لکھتے ہیں کہ۔۔’’ہندوستان میں حرکت تجدید نے اپنا ممتاز ترین ظہور سر محمد اقبال کی شاعری میں حاصل کیاہے۔‘‘ اس قول سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ اقبال نے جب حب وطن میں ڈوب کر اپنے ملک کے لئے شاعری کی تو لوگو ں میں انقلاب پیدا ہوا اور لوگ فروگزاشت سے نکل کر حرکت و عمل کی طرف راغب ہوئے اور زمین کی پستیوں سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں پر اپنے قدم کو رکھا اقبال کہتے ہیں کہ ۔۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
دوسرے شعرا نے بھی انقلابی شاعری کی مگر اقبال کی شاعری میں ان کا خون جگر لگا ہواتھا جس کی وجہ سے ان کی شاعری نے لوگوں کے دلوں پر زیادہ اثر کیا اور لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ یہ اقبال کی شاعرانہ عظمت ہی ہے کہ انہوں نے ایک ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا تک کو اپنا پیغام دیا کیونکہ اقبال کی نظر میں پوری دنیا ان کی تھی وہ خود کہتے ہیں کہ ’’ہند ی ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا‘‘
اگر ہم دوسرے شعرا کی بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے صرف اپنے اطراف اپنے ملک کے سیاق میں شاعری کی ہے بہت ہی کم ایسے شعرا ملیں گے جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی شاعری کا مطمح نظر بنا یاہو ان چند میں بھی اقبال کانام ہمیں ضرور ملے گا کبھی شاعری کی شکل میں تو خطوط کی شکل میں لیکن بہر حال اقبال ؔ اقبال تھے ا ن کا کوئی ثانی نہیں اور ان کی شاعرانہ عظمت سے کسی کو انکار نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ گذرجانے کے باوجود بھی ان کی شاعری زندہ و تابندہ ہے اور آ ج بھی ہم اقبال کو پڑھتے ہیں۔ان کے فلسفہ کی گرہوں کو کھولنے کی سعی کرتے ہیں تاکہ ہمیں بھی صحیح راہ ملے اور یہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا جیتا جاگتاثبوت ہے ۔میں اپنی بات کو چند ہستیوں کے قول پر ختم کرتا ہوں کہ۔۔
’’اقبال ایک شاعر جس نے زمانے پر اپنا سکہ بٹھایا‘‘ (ڈاکٹر طہ حسین مصر)
’’علامہ اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شعرا اور مفکر میں کیاجاتاہے ۔ان کی حیا ت ہی میں انہیں شاعر مشرق کہا جانے لگا‘‘۔( نکولائی گلوبوف،روس)
’’اقبال کی شاعری کی خاص غایت تھی ۔مولانا حالی کی طرح اقبال نے بھی اپنی شاعری سے قوم او رملک کو جگانے اور رہنمائی کا کام لیا۔یہ اس کے خیال اور فکر کی قوت اور جدت تھی جس نے اس کے کلام اور طرز بیان میں زور اور جوش پیدا کردیا۔‘‘(بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق)
’’صرف سرزمین پاکستا ن کے لئے نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ آزادی ، وطن پرستی اور فضیلت کے لئے کوشاں تمام مسلمانوں اور انسانوں کی خدمت کرنے والے مفکر شاعر اقبال ہیں ‘‘ (ڈاکٹر عبدالقاد ر کراحان ، ترکی )
مندرجہ بالا اقوال کی بنا پر ہرکوئی اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اندازہ لگا سکتاہے کہ پوری دنیا کے لوگ ان کی فکر سے متاثر ہو کر اس پر اپنے تاثرات کو زیر قلم لا رہے ہیں۔اس طرح سے اقبال کی شاعرانہ عظمت زندہ جاوید ہو جاتی ہے۔
———
Jarrar Ahmad
ریسرچ اسکالر، شعبۂ تعلیم و تربیت
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی(مانو)، حیدرآباد
موبائل: 09618783492

http://epaper.avadhnama.com/epaper/edition/586/avadhnama-urdu/page/5
http://www.jahan-e-urdu.com/poetic-greatness-of-allama-iqbal/