Thursday, 14 December 2017

اقبال کی شاعرانہ عظمت جرار احمد Poetic Greatness of Allama Iqbal by Jarrar Ahmad

اقبال کی شاعرانہ عظمت
جرار احمد
اقبال کی پیدائش 9؍ نومبر 1877 ؁ء کو سیالکوٹ میں ہوئی ۔ والدین بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے اس کے باوجود بیٹے کی تربیت پر بہت توجہ کی ۔ اپنے وطن میں ہی اقبال نے پرائمری اور اعلی پرائمری تعلیمات حاصل کیں ۔البتہ 1905میں اعلی تعلیم کی خاطر انگلستان کے لئے رخت سفر باندھا۔ 1908میں نئی فکر ، نئی سوچ کے ساتھ واپس اپنے وطن آئے ۔21؍اپریل 1938کو ایک لمبی بیماری کے بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔
اقبال ہماری زبان اردو کے فلسفی شاعر ہیں ، جیسا کہ انہوں نے بارہا اس بات کا اعتراف کیا کہ میں شاعر نہیں ہوں بلکہ میں نے شاعری کو صرف اپنے پیغام کی ترسیل کا ایک ذریعہ بنایا۔اقبال کہتے ہیں کہ ’’ میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا ۔فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی، ہاں ! بعض مقاصد خاص رکھتاہوں جن کے بیان کے لئے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کر لیا ہے ورنہ ۔۔
نہ بینی خیر ازاں مرد فرو دست
کہ برمن تہمت شعرو سخن بست‘‘
اس قول کی تصدیق میں عبدالماجد دریا بادی کہتے ہیں کہ ۔۔’’وہ باوجو د اتنا بڑا مشہور شاعر ہونے کے شاعر نہیں ہے بلکہ اپنے پیام سے مقام نبوت کی جانشینی کا حق ادا کر رہا ہے۔ مبارک ہیں وہ ہستیاں جو اقبال شناس ہو جائیں۔‘‘
عبدالماجد دریابادی کا یہ قول جہاں اس بات کی تائید کر رہاہے کہ اقبال شاعر نہیں تھے وہیں ان کی عظمت کا اعتراف بھی کر رہاہے کہ یقیناًوہ ایک بہت بڑے عظیم شاعر و فلسفی تھے ۔اسی وجہ سے مقام نبوت کی جا نشینی کا جملہ دریابادی نے استعمال کیا جس سے ان کی عظمت اور بڑھ جاتی ہے ۔
اردو کے دوسرے شعرا پرجب ہم نظر ڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اگر چہ ان کی شاعری میں بھی فلسفہ مل جاتا ہے جیسا کہ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ فلسفیانہ عنصر ہوتاہے مگر جو فلسفی ہوتاہے اس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے اسی طرح سے اقبال سے پہلے اور بعد بھی بہت سے ایسے شعراء گذرے اور آئے جن کے یہاں ہمیں جا بجا فلسفیانہ عنصر ملتاہے مگر اقبال چونکہ کی فلسفی تھے اسی لئے اگراس ضمن میں میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ دوسروں کے وہاں جس طرح تھوڑا تھوڑا فلسفیانہ عنصر ملتاہے اسی طرح ٹھیک اس کے برعکس اقبال کے یہاں تھوڑا تھوڑا شاعرانہ عنصر ملتاہے ۔
اقبال کی عظمت اس طرح سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اقبال نے شاعری کو صرف ذریعہ بنایا مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی کہ فن شاعری کو بھی نہایت خوبی کے ساتھ برتا جائے تاکہ شاعری بھونڈی نہ معلوم ہو اسی وجہ سے بعض لوگوں نے کہاکہ اقبال شاعر تھے جا بجا وہ شاعر تھے اور یہ ان کا کمال ان کی عظمت تھی کہ انہوں نے دوفن کو ایک ساتھ برتا یعنی فلسفہ کے ساتھ ساتھ فن شاعری کو بھی انہوں نے نہایت سلیقہ کے ساتھ ساتھ برتا اور یہی وجہ ہے کہ اقبال اپنے پیغام کی ترسیل میں کما حقہ کامیاب ہوئے ۔ اگر وہ شاعری کے فن کو صحیح سے نہ برتتے تو شرفا اور خاص طبقہ تک ان کے پیغام کی ترسیل نہ ہوپاتی اور ان کی شاعری صرف عوام اور جہلاتک محدود رہ جاتی اسی لئے اقبال نے فن کو برتا تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ خواص تک بھی رسائی ہوجائے اور یہی رویہ ،طریقہ شاعری میں بدلاؤ کی وجہ بنا کہ عوام نے اسے پسند کیا اور خواص نے اقبال کے ساتھ اسے اپنی شاعری میں برتاجس کی وجہ سے اقبال کی شاعرانہ عظمت میں چار چاند لگ گیا اور وہ شاعری کے آسمان پر ماہتاب بن کر چمکے ۔چونکہ اقبال ایک پیامی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ پیرایۂ اظہار میں دلکشی نہ ہو تو فلسفہ و پیغام کی طرف کوئی متوجہ ہوتاہی نہیں اسی وجہ سے انہوں نے تمام شعری وسائل کا سہارا لیکر سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
اقبال نے اپنے فلسفہ سے ملت اسلامیہ کے درد کی دوا کی اور ہر لمحہ ہر آن یہی کوشش کی کہ کس طرح سے ملت اسلامیہ کو قعر مذلت کے دلدل سے نکالاجائے اور ان کا کھویا ہوا وقار ، رتبہ جاہ وحشمت واپس لوٹا یا جائے اور وہ اپنی قدرومنزلت اپنے عہدے پر دوبارہ فائز ہوں ۔ یہاں پر یہی فکر ،یہی فلسفہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کے وقار کواور بلند کردیتا ہے کہ ان کے وقت بہت سے دوسرے شعرا تھے جو صرف فن برائے فن یا فن برائے زندگی کے لئے شاعری کررہے تھے مگر اقبال اپنی قوم کی ڈوبتی نیا کو طوفان حوادث سے کنارہ لانے کے لئے کوشاں تھے ۔
دوسرے شعرا نے اپنے وقت ، حالات ، ماحول کو اپنی شاعری میں پیش کیا اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی شاعری کو بدلا مگر اقبال نے عام روش سے ہٹ کر اس کام کو کیا ، انہو ں نے خود وقت، حالات ، ماحول کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کی اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق شاعری کرنے کے بجائے اپنی شاعری کے ذریعہ سے خود ماحول ،وقت اور حالات کو بدلنے کی کامیاب سعی کی۔
جس کی مثال خود ان کا یہ شعر ہے کہ۔۔
نہ ہو ماحول سے مایوس دنیا خود بنا اپنی
نئی آندھی ،نئی کشتی ، نیا طوفان پیداکر
اقبال کا فلسفہ ہمیشہ اسی طرز فکر کے اطراف گھومتارہاہے ۔ اور انہوں نے ہمیشہ اپنے فلسفہ میں یہ پیغام دیا کہ کسی بھی صورت میں تجھے مایوس نہیں ہونا ہے ۔ اگر ماحول تیرے مطابق نہیں ہیں تو نہ ہوں تجھے اس کی فکر بھی نہیں کرنی ہے تو خود اپنے لئے ایک الگ سے اپنا اک نیا ماحول بنا ، جو جو چیزیں تیرے موافق نہیں ہیں وہ وہ چیزیں تو خود اپنے لئے الگ سے نئی بنالے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ خود بہ خود تو دیکھے گا کہ جن چیزوں ، حالات و ماحول کو تونے اپنے لئے بنایا تھا آج وہ پورے عالم پر چھائی ہوئی ہیں۔
اقبال کی شاعری کا ایک خاص وصف یہ بھی تھاکہ وہ اپنے پیغام کو کسی اہم ہستی کے ذریعہ یازبانی ادا کراتے ہیں جس سے ان کے پیغام کی تا ثیر اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ کہیں خضر کی زبان ،کہیں جبریل کی تو کہیں لینن کی ،کہیں سر سید کی تو کہیں خالق کائنات کی زبانی اپنے پیغام کی ترسیل کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔ان ہستیوں کے ذریعہ اپنے پیغام کی ترسیل اس لئے کرتے ہیں تاکہ نہایت ہی مؤثر طریقہ سے پیغام کی ترسیل ہو اور ہر کس و ناکس کے دل میں ان کا پیغام گھر کر جائے اور لوگ خواب غفلت سے بیدار ہو کر عمل کی کوشش کی طرف گامزن ہو جائیں کیونکہ عمل سے ہی دین بھی ہے اور دنیا بھی۔
ان کی شاعری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کی غزلوں اور نظموں کو بڑی خوش آہنگی کے ساتھ گایا جا سکتاہے اور سننے والے اس سے کچھ زیادہ ہی محظوظ ہوتے ہیں کیونکہ اقبال کے کلام میں ترنم بہت زیادہ ہے۔اقبال نے بحروں کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے اور لفظو ں کے انتخا ب میں بھی انہوں نے بہت ہنر مندی کا ثبوت دیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ خواص کے ساتھ ساتھ عوام الناس نے بھی اقبال کو خوب سراہااور ان کی نظموں اور غزلوں کو گایاجس نے ا ن کی عظمت کو اور بڑھادیا۔
اقبال صرف ایک جگہ ،ایک مقام ،ایک ملک کے شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک ملی شاعر تھے ان کا پیغام آفاقی تھا، ان کا فلسفہ پوری دنیا کی فلاح کے لئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہے کبھی وہ بچوں کے لئے قومی گیت، نیاشوالہ وغیرہ تخلیق کر تے ہیں تو کبھی ترانۂ ملی لکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اقبال کی شہرت کا دارو مدار ان کی طویل نظموں پر ہے جن میں ان کا خاص رنگ خاص فکر اور تخیل پایا جاتاہے ۔ انہیں نظموں میں اقبال نے اپنے خاص شاعرانہ فن کے جوہر کی نمائش کی ہے اور فلسفہ و تصوف حب وطن کے جذبات کے ساتھ ان میں بہترین شستہ و رفتہ زبان، سلاست بیان ، زور تخیل ،جذب و اثر اور نئے نئے استعارے ، تشبیہیں پائی جاتی ہیں۔ ’’ہمالہ‘‘ ’’خضر راہ‘‘ ’’شمع وشاعر‘‘ شکوہ‘‘ کا تعلق اسی صنف سے ہے۔ یہ تمام نظمیں رسمی اور معمولی نہیں ہیں بلکہ یہ غیرمعمولی حیثیت کی حامل ہیں جس میں اقبال نے اپنے فن کے جوہر رسم و روایت سے ہٹ کر دکھائے ہیں ۔اور یہ سچے جذبات کا صاف و شفاف آئینہ اور طرز بیان اور بلندی خیال کا بہترین نمونہ ہیں اور ساتھ ہی اقبال کی شاعرانہ عظمت کی اعلی مثالب بھی ہیں ۔
جب تک اقبال ملی شاعری نہیں کررہے تھے تو اقبال کی فکر اقبال کا فلسفہ حب وطن کے جذبہ سے سر شار تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ ۔۔
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
جب اقبال انگلستان سے لوٹے تو جذبہ وطنیت مدھم پڑ گیا تھا اور اب ان کے اندر جو جذبہ تھا وہ محدود نہیں تھا بلکہ لا محدود تھا اور یہ جذبہ ملی تھا اور جیسے ہی ان کا جذبہ ملی ہو تاہے وہ کہتے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمانو کو اپنے تئیں ایک عظیم الشان زنجیر کی کڑیاں سمجھنا چاہئے قوم و ملک قرب وبعد کے فرضی خیالات دل سے یک قلم نکال دینا چاہئے اور اپنے تئیں ایک برادری سمجھنا چاہئے اس ضمن میں اقبال کہتے ہیں کہ۔۔۔
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی
اس طرح سے اقبال نے بالا اشعار کے ذریعہ سے اپنے ملی جذبے کا اظہار کیا ہے آج کے وقت میں جس کی سب سے اہم ضرورت ہے ہر کوئی اقبال سے لے کر آج تک اس کی ضرورت محسوس کرتا آیا مگرافسوس کہ عمل کرنے کے لئے چندے لوگ بھی آگے نہیں آئے اور نہ ہی کسی نے اقبال کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔مگر پھر بھی اقبال کی عظمت ان معنوں میں باقی ہے کہ جو بات انہوں نے انیسویں صدی میں کہدی تھی آج اس کی معنویت اور زیادہ ہوگئی ہے ۔اور ایک بڑے شاعر کی یہی پہچان ہے کہ وہ حال کے تناظر میں مستقبل کو دیکھ لیتاہے ۔
جو بھی عظیم شاعر ہوتاہے وہ اپنی شاعری زندگی کے حقائق کے سیاق میں عملی شاعری کرتاہے۔ اسی طرح سے اقبال کی شاعری پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ اقبال نے بھی عملی شاعری کی ہے اور وہ اشیاکے عملی پہلو کو کبھی نظر انداز نہیں کرتے ہیں اس کے باوجود کہ ان کے خیالات آسمان کی بلندیوں میں پیماں ہیں مگر وہ بذات خود زمین کی آغوش میں ساکن ہیں ۔ اقبال کو انسانی کمزوریوں کابہت ہی اچھے سے احساس ہے ۔ ان کی دنیا عملی ہے جس میں خوشی و غم ، فرحت و مسرت اور امید و یاس کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اور وہ کبھی اس حقیقت کو نظر انداز کرنا نہیں چاہتے ۔ او ر حقیقت سے روگر دانی نہ کرنا ہی بڑ ے شاعر کی نشانی ہے اور یہ بھی اقبال کی عظمت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔
کوئی بھی موضوع ہو اقبال کی نظر سے وہ دور نہیں ایک معمولی سے جگنو کی داستان سے لیکر دنیا کے بڑے بڑے بکھیڑوں تک پر اقبال نے شاعری کی، کبھی سید کی لوح تربت ، تو کبھی طلبا علی گڑھ کالج کے نام تو کبھی لینن تو کبھی جبریل و ابلیس تو کبھی عقل و دل تو کبھی حب وطن غرض کی ہر جگہ اقبال نے اپنے فکر اور فلسفہ کی چھاپ چھوڑی اور ان کا پیغام اپنے وطن کے لئے بھی تھا اپنی سوتی ہوئی قوم کو جگانے کے لئے بھی اور ان کو حرکت میں لانے کے لئے بھی تھا ۔اس ضمن میں سرطامس آرنلڈ ، برطانیہ لکھتے ہیں کہ۔۔’’ہندوستان میں حرکت تجدید نے اپنا ممتاز ترین ظہور سر محمد اقبال کی شاعری میں حاصل کیاہے۔‘‘ اس قول سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ اقبال نے جب حب وطن میں ڈوب کر اپنے ملک کے لئے شاعری کی تو لوگو ں میں انقلاب پیدا ہوا اور لوگ فروگزاشت سے نکل کر حرکت و عمل کی طرف راغب ہوئے اور زمین کی پستیوں سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں پر اپنے قدم کو رکھا اقبال کہتے ہیں کہ ۔۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
دوسرے شعرا نے بھی انقلابی شاعری کی مگر اقبال کی شاعری میں ان کا خون جگر لگا ہواتھا جس کی وجہ سے ان کی شاعری نے لوگوں کے دلوں پر زیادہ اثر کیا اور لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ یہ اقبال کی شاعرانہ عظمت ہی ہے کہ انہوں نے ایک ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا تک کو اپنا پیغام دیا کیونکہ اقبال کی نظر میں پوری دنیا ان کی تھی وہ خود کہتے ہیں کہ ’’ہند ی ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا‘‘
اگر ہم دوسرے شعرا کی بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے صرف اپنے اطراف اپنے ملک کے سیاق میں شاعری کی ہے بہت ہی کم ایسے شعرا ملیں گے جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی شاعری کا مطمح نظر بنا یاہو ان چند میں بھی اقبال کانام ہمیں ضرور ملے گا کبھی شاعری کی شکل میں تو خطوط کی شکل میں لیکن بہر حال اقبال ؔ اقبال تھے ا ن کا کوئی ثانی نہیں اور ان کی شاعرانہ عظمت سے کسی کو انکار نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ گذرجانے کے باوجود بھی ان کی شاعری زندہ و تابندہ ہے اور آ ج بھی ہم اقبال کو پڑھتے ہیں۔ان کے فلسفہ کی گرہوں کو کھولنے کی سعی کرتے ہیں تاکہ ہمیں بھی صحیح راہ ملے اور یہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا جیتا جاگتاثبوت ہے ۔میں اپنی بات کو چند ہستیوں کے قول پر ختم کرتا ہوں کہ۔۔
’’اقبال ایک شاعر جس نے زمانے پر اپنا سکہ بٹھایا‘‘ (ڈاکٹر طہ حسین مصر)
’’علامہ اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شعرا اور مفکر میں کیاجاتاہے ۔ان کی حیا ت ہی میں انہیں شاعر مشرق کہا جانے لگا‘‘۔( نکولائی گلوبوف،روس)
’’اقبال کی شاعری کی خاص غایت تھی ۔مولانا حالی کی طرح اقبال نے بھی اپنی شاعری سے قوم او رملک کو جگانے اور رہنمائی کا کام لیا۔یہ اس کے خیال اور فکر کی قوت اور جدت تھی جس نے اس کے کلام اور طرز بیان میں زور اور جوش پیدا کردیا۔‘‘(بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق)
’’صرف سرزمین پاکستا ن کے لئے نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ آزادی ، وطن پرستی اور فضیلت کے لئے کوشاں تمام مسلمانوں اور انسانوں کی خدمت کرنے والے مفکر شاعر اقبال ہیں ‘‘ (ڈاکٹر عبدالقاد ر کراحان ، ترکی )
مندرجہ بالا اقوال کی بنا پر ہرکوئی اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اندازہ لگا سکتاہے کہ پوری دنیا کے لوگ ان کی فکر سے متاثر ہو کر اس پر اپنے تاثرات کو زیر قلم لا رہے ہیں۔اس طرح سے اقبال کی شاعرانہ عظمت زندہ جاوید ہو جاتی ہے۔
———
Jarrar Ahmad
ریسرچ اسکالر، شعبۂ تعلیم و تربیت
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی(مانو)، حیدرآباد
موبائل: 09618783492

http://epaper.avadhnama.com/epaper/edition/586/avadhnama-urdu/page/5
http://www.jahan-e-urdu.com/poetic-greatness-of-allama-iqbal/

Inchaiya by Jarrar Ahmad انچائیہ جرار احمد

انچائیہ
جراراحمد
نوٹ: اس مضمون کو بغیر کسی عنوان کے میں نے شعبہ اردو میں تمام اساتذہ کی موجودگی میں پڑھا تھا ، مکمل کرنے کے بعد سامعین سے عنوان کی درخواست کی تو محمد امان نے انچائیہ کہا اور سب نے اس کی تائید کی، اس طرح سے اس انشائیہ کا عنوان انچائیہ رکھا۔

جب سے موسم تھوڑا سرد ہوا تھا، ہم لوگوں کوشام کے علاوہ دوپہر میں بھی چائے پینے کی عادت سی پڑگئی تھی، مگر شام کی طرح دوپہر کے لیے باری متعین نہیں کی گئی تھی کہ کس کے بعد کون پلائے گا۔ بہر حال اسی طرح ایک روز ظہرانے کے بعد ہم لوگ اکٹھا بیٹھے چائے پینے کی سوچ رہے تھے مگر سوال یہ تھا کہ آخر پلائے کون؟

فیروز اور ریاض بھائی ابھی ڈائننگ میں ہی تھے۔ پلان یہ ہوا کہ ریاض بھائی سے چائے پی جائے ۔ مگر ان سے چائے کے لیے کہے کون؟ ابھی ہم اسی اُدھیڑ بنُ میں تھے کہ وہ آ گئے ۔ وہ جیسے ہی آئے ہم نے کہا ،یار ریاض بھائی چائے پینی ہے ۔ ریاض بھائی نے بہت ہی متانت اور تحمل کے ساتھ کہا’میں پیسہ لے کر نہیں آیا ہوں ۔۔!‘ابھی وہ جملہ پورابھی نہیں کر پائے تھے کہ ہماری پلاننگ کے مطابق دلشاد بھائی نے جیب سے 100؍روپیہ نکالا اور ریاض بھائی سے بولے یہ لیجیے اس دن جو آپ نے مجھے ادھار دیا تھا ۔ریاض بھائی نے خوشی کم غصہ زیادہ اور حسرت بھری نگاہ سے دلشاد بھائی کو دیکھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی پیسہ لے لیا، بس پھر کیا تھا ہم سب بول پڑے چلئے ریاض بھائی چلیے اب تو پیسہ مل گیا ۔ہم سب خوشی خوشی اور ریاض بھائی بجھے بُجھے ٹی پوائنٹ کی سمت چل پڑے۔چلتے ہوئے میں نے ریاض بھائی کو تاکید کی کہ آئندہ کبھی چائے پلانے کا موڈ نہ رہے تو پیسے کا بہانہ مت کیجیے گا،بلکہ صاف صاف کہہ دیجیے گا کہ’ نہیں پلاؤں گا‘، نہیں تو یہ لوگ ہمیشہ ایسے ہی موقعوں پر ادھاری واپس کر کے چائے پیا کریں گے ۔اتنا سننا تھا کہ ارشد بہت ہی تیزی سے ریاض بھائی کی طرف بڑھا اور بولا ریاض بھائی مجھے بھی کبھی ادھار دیجیے گا ایسی ہی ضرورت کے وقت آپ کے کام آکے مجھے بہت خوشی ہوگی ۔ اب کیا تھا ریاض بھائی جو ویسے ہی چائے پلانے کے موڈ میں نہیں تھے، ان کو موقعہ مل گیا وہی سو روپیہ ارشد کی طرف بڑھاتے ہوئے بولے ’لے سالے تو ابھی ادھار لے‘ ۔ارشد بھاگنے لگا کہ نہیں ابھی نہیں ،ریاض بھائی دوڑانے لگے کہ نہیں تُو ابھی لے۔ریاض بھائی یہ سوچ کر دوڑا رہے تھے کہ دے دیا تو میں بچ جاؤں گا اور ارشد یہ سوچ کر بھا گ رہا تھا کہ لے لیا تو میں پھنس جاؤں گا۔تھوڑی دیر تک دوڑ بھاگ چلتی رہی پھر سیف نے دونوں کو روک کرٹی پوائنٹ کے اسٹول پر بیٹھنے کے لئے کہا اور ارشد کو متوجہ کر کے کہا تم کو ریاض بھائی ابھی خدمت کا موقعہ دے رہے ہیں تو بھاگ کیوں رہے ہو۔تم کو چاہیے کہ ابھی جھٹ سے پیسہ لے کر پٹ سے لوٹاکربلاتاخیر ان کی خدمت کا فریضہ انجام دو۔ریاض بھائی سیف کو گھور نے لگے اور میری طرف دیکھ کر بولے کل ملاکر مجھی کو کاٹناہے تو ڈائریکٹ بول دونا۔۔! خرگوش کی طرح بدلہ کیوں لے رہے ہو ،کہ خرگوش چڑیا گھر میں بم لے کر گھس گیااور آواز لگائی کہ تم سب کے پاس ایک منٹ ہے یہاں سے نکلنے کے لئے ۔۔۔کچھوا بولا واہ کمینے واہ ۔۔۔سیدھی طرح کہہ دے نا کہ میں ہی ٹارگیٹ ہوں۔۔۔ اتنے میں چائے آگئی میں نے کہا ریاض بھائی چائے لیجیے اور پھر ہم سب کچھوے کی طرح آرام سے مزے لے لے کر چائے پینے لگے کہ اسی اثنا آفتاب نے ریاض بھائی سے کہا، ریاض بھائی او ر کیا منگا رہے ہیں؟اتنا سننا تھا کہ ریاض بھائی خرگوش کی سی پھر تی سے پیسہ دے کر آئے اور بولے payment done۔ ہم سب سمجھ گئے کہ بس اب کچھ اور نہیں۔۔
ایسے ہی ہم سب ایک دوسرے کو تنگ کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔تنگ کر کے کھانے پینے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ اگر کوئی سیدھی طرح سے کہے کہ چلو یار چائے پیتے ہیں تو باقی سب کہیں گے کہ ارے یار موڈ نہیں ہے جا تو پی لے ۔اب وہ عاجز آکر کہے گا کہ اچھا ٹھیک ہے اب کبھی پلانے کے لیے کہوگے نا توناک رگڑتے رہ جاؤ گے مگر پلاؤں گا نہیں۔۔ اس کے علاوہ بارہا توایسا بھی ہو ا ہے کہ انکا رکرنے والے یہ سوچ کر انکار کرتے ہیں کہ کون جائے ابھی ہمیں کو پیسے دینے پڑیں گے اورلیواجانے والا یہ سوچ کر اصرار کرتا ہے کہ چلیں گے توکوئی نہ کوئی پیسہ تو دے ہی دے گا ، پر جانے والے بھی ایسے ڈھینٹ کہ جب تک لیواجانے والا یہ نہ کہہ دے کہ ارے یار قسم سے میں پلاؤں گا تب تک کوئی جائے گا نہیں، کیوں کہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ چائے پینے کے بعد جس نے چائے پینے کو کہا تھا اس سے کہا گیا کہ جا ؤ پیسے دو تو اس نے کہا کہ میں کیو دوں؟ چائے تو سب نے پی۔۔!اور میں نے تو پینے کو کہا تھا پلانے کو نہیں۔۔!اسی لئے اب سب لوگ محتاط ہوگئے ہیں اور تب تک چائے پینے نہیں جاتے ہیں جب تک کہ پلانے والے سے قسم نہ لے لیں۔۔
دوپہر میں چائے پینے پلانے کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا اور کسی نہ کسی سے جبرا چائے پی لیتے کہ اسی بیچ جب ہم لوگ کسی کو تیار کرکے چائے پینے کے لئے نکلتے تو دیکھتے کہ ہمارے اساتذہ پہلے سے ہی وہاں پر موجود ہیں۔ اب ان کی موجودگی میں ہم چائے کیسے پئیں؟ایک دن دوسرے دن ، تیسرے دن بھی جب ایسا ہی ہوا اور کوئی چائے نہیں پی پایا تو سب کو بہت غصہ آیا کہ یار اتنی محنت سے کسی نہ کسی کو پلانے کے لئے تیار کرتے ہیں اور ان لوگوں کی وجہ سے چائے Cancel کرنی پڑتی ہے اور جس کو پلا نے کے لئے تیار کر تے تھے اس کی تو بلے بلے ہوجاتی۔ وہ زور دے کر کہتا چلویار سر ہیں تو کیا ہوا میں پلاتا ہوں نا۔۔ہم سب نے سوچا آخر کچھ تو اس کا حل نکالنا ہی پڑے گا۔پھر ہم نے پلان بنایاکہ اب جب سر لوگ آئیں تو کو ئی ایک سب کو بتادے کہ سر آگئے ہیں اورپھر سب لوگ باری باری ٹی پوائنٹ پہونچیں اور چل کر الٹا انہیں لوگوں سے چائے پیتے ہیں، اس طرح سے ہم کو ان پر غصہ ہونے سے اچھا ہے کہ وہ ہم پر غصہ ہوں۔ ودود نے پوچھا کہ باری باری کیوں رے ؟ سب لوگ ایک ہی ساتھ چلتے ہیں نا؟ تو مہتاب نے کہا کہ ایک ساتھ جاؤ گے تو پلانے والا ڈر جائے گا اوراگرباری باری جاؤگے تو سمجھے گا کہ چلو اکیلا تو ہے بلاہی لیتے ہیں ۔میری اس بات پر سب نے اتفاق کیا کہ سیف کے روم کی ونڈو سے ٹی پوائنٹ چونکہ صاف صاف دِکھتاہے اس لیے یہ ذمہ داری سیف کی ہے کہ جیسے ہی سرلوگ آئیں سب کو میسیج کردے۔اس طرح سے ہم میں سے کوئی، جیسے ہی ٹی پوائنٹ پر پہونچتاسر بولتے کہ آؤ چائے پی لو اور پھر دوسرا ،تیسرا باری باری سب پہنچ جاتے اور چائے پی کر خوش و خرم روم لوٹ آتے۔
ایک مرتبہ کئی دن گذر گئے پر سرلوگ تو کیاکلام سر بھی نہیں آئے، اب ہم لوگ سوچنے لگے کہ یار کس سے چائے پی جائے ۔ پھر ہم نے ودود سے ایک روز کہا آج چاہے کلام سر آئیں یا نہ آئیں سب کو میسیج کردینا کہ کلام سر آئے ہیں ۔پہچنے کے بعد تو کوئی نہ کوئی پلاہی دے گا، پر یاد رہے ہم لوگ بعد میں چلیں گے جب سب لوگ چائے پینے لگیں تب، میں نے ودود کو یہ بھی تاکید کی کہ ویلیٹ تو قطعی لے کر مت جانا ۔کچھ وقفے کے بعد میرا موبائل بجتاہے ، دیکھتا ہوں تو ودود کا میسیج تھا ، تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ایک کر کے سب لو گ میرے روم پر جمع ہونے لگے ۔میں نے پوچھا کیا بات ہے ۔ وہ لو گ بولے تمہارے پاس میسیج نہیں آیا ہے ؟ہم نے کہا نہیں ، کیا ہوا؟تو بولے چلوکلام سر آئے ہیں تو ہم نے کہا کہ تم لوگ چلو ہم آتے ہیں ۔ تو سیف بولا کہ چل یار موڈ مت خراب کر ۔ اسی بیچ میرا پارٹنر عادل جوکہ ایم۔اے۔ ہندی کا ہے بول پڑتا ہے کہ کیا اردو والے سر آئے ہیں؟ میں بھی چلوں گا۔ میں نے کہا کہ اگر ہندی والے جائیں گے تو میں نہیں جاؤں گا۔ آفتاب بولا کہ اب جانا نہیں چاہ رہے ہو تو ہندی والوں کا بہانہ مت بناؤ ، اس سے پہلے تو کبھی منع نہیں کیے؟ میں نے کہا یار روزتو پہلے میں ہی جاتاہوں کبھی تم لوگ بھی۔۔۔اتنے میں ریاض بھائی بڑے بڑے القاب و آداب کے بعد بولے ، آپ تو ہمارے رہبر و رہنما ہیں ہم سب آپ ہی کی قیادت اور سیادت میں چلیں گے۔سب نے یک زبان ہوکر کہا بے شک بے شک ۔ مرتا کیا نہ کرتا چپ کے سے پر س روم پر رکھا اور چل دیا۔اب وہاں پہنچے تو کلام سر کا پتہ ہی نہیں۔ انجان بن کر میں نےان لوگوں کو پھٹکارا کہ میں تو آنہیں رہا تھا خواہ مخواہ میں اٹھالائے ؟کہاں ہیں سر ؟وہ سب بولے ودود نے میسج کیاہے ،میں نے کہاودود کہاں ہے ؟تو بولے آرہا ہوگامیں نے کہا مزاق کیا ہوگا۔پھر سیف کو مخاطب کر کے میں نے کہا کہ آنے سے پہلے تمہیں دیکھ لینا چاہیے تھانا یہیں ونڈو کے پاس تو رہتے ہو ، تو وہ گھبراکربولاکہ یار چائے پینے کی دھن میں یہ سب بھول گیا اور مجھے کیا پتہ کہ وہ ایسا بھی کر سکتاہے ، پھرغصہ کرتے ہوئے ضدی انداز میں بو لا کہ اب تو ودود سے ہی چائے پئینگے کیوں بلایااس نے ۔ودود کو فون کیاگیا اس نے کال ریسیو نہیں کی،خیر چائے آرڈر کی گئی۔میں نے دیکھا کہ ودود اوپر سے ہم لوگوں کو دیکھ رہاہے ۔ جیسے ہی چائے آئی وہ دوڑتاہوا آیا۔ جب وہ چائے لینے گیا تو آپس میں چہ مہ گوئیاں ہوئیں کہ بکراخود بہ خودقربان ہونے کے لیے آگیا۔۔سب نے مزے لے لے کے چائے پی۔ جب پیسہ دینے کی باری آئی توسیف نے کہا ودود پیسے دے دو۔ودود نے کہا میں کیوں دوں ؟سب نے کہا دے دو نہیں تو خیر نہیں ہے۔تو وہ بولا کہ یار میں تو سب سے بعد میں آیا ہوں ۔ تو فیروز بولا کہ فیصلہ یہ ہواہے کہ جو سب سے دیر میں آئے گا پیسہ وہی دے گا۔ سیف بولا کہ اور یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ آپ ہی نے سب کو مسیج کیا تھا اب آپ ہی دو۔ودود میری طرف اشارہ کر کے بولا کہ پلان اس کا تھا ،سب لوگ میری طرف دیکھنے لگے میں نے کہا اب تو فیصلہ ہو چکا نا ۔؟تو وہ بولا کہ میں پر س نہیں لا یا ہوں تو میں نے کہا وہ تو میں بھی نہیں لایا ہوں۔ ودود بولا کہ ارے یار کوئی لایا ہو تو دے دے میں اس کو دے دوں گا۔سب لوگ خاموش رہے ، پھر ودود نے فیروز کو مخاطب کر کے کہا ارے فیروز تو ہی دیدے ہم ’تے ‘کو دے دیں گے۔ فیروزنے کہا، ابھی تک کسی کا کسی نے دیا ہے ؟ سب لوگ تو جس کا لیا ۔۔۔۔نہیں دیا والے فارمولے پہ عمل کرتے ہیں ۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ آفتاب سے جرار بھائی نے اپنا سو روپیہ واپس مانگا تواس نے کہاکہ کل اسی پیسے سے تو کھلایا پلایا تھا؟ یہاں تو ایسے ایسے اللہ والے پڑے ہیں کہ ادھار لینے کے بعد پیسہ واپس کرنے کے بجائے خوب کھلائے پلائیں گے اور جب واپس مانگوتو کہیں گے کہ اتنے دن کیسا کھا پی رہے تھے۔؟
ودود کو حیران و پریشا ن دیکھ کر ارشد بولاکہ جاؤ یار تمہارا تو یہاں کھاتہ چلتا ہے نا ؟جا اس کو بول دے بعد میں دے دیں گے۔ ودود بولا ایسا ہے کہ تم لوگ رکو میں پر س لے کے آتا ہوں ۔سب لوگ ایک ساتھ بول پڑے نہیں نہیں جانے کے بعد کوئی واپس آیا ہے ؟تو رک ہم لو گ جاتے ہیں تجھے جو کرناہے کر پیسہ تجھے دینا ہے تو جاکے سمجھ ہم لوگ چلتے ہیں ۔ خدا حافظ۔۔
چائے کا سلسلہ تھوڑا مدھم ہوا مگر ونڈو والے آئیڈیا کا سیف غلط فائدہ اٹھانے لگا، جب کبھی بھی ہم میں سے کوئی چائے کے لیے ٹی پوائنٹ پہنچتا تو وہ آجاتا اور جب پیسہ دینے کی باری آتی تو بولتا کہ تم لوگ پہلے آئے ہو، تم لوگ دو اور okاللہ حافظ کہہ کر چلاجاتا۔کئی بار ایسا ہی ہوا ۔ایک مرتبہ ہم لوگ چائے کے لئے ٹی پوائنٹ پر تھے، سیف ونڈو سے دیکھ کر چلایا میں آرہا ہوں۔ میں نے سب کو کہہ دیا کہ آج چائے پی کر سب لوگ میرے پیچھے دوڑ لگادیں اور بھاگ چلیں اس طرح سے سیف کو پیسہ دینا پڑے گا۔سب نے اتفاق کیا ۔ جب سیف چائے لے کر آیا ہم لوگ آخری گھونٹ پی رہے تھے اور ریاض بھائی نے اپنے مخصوص انداز میں چائے کو سُڑسڑاکر ختم کیا۔ پھر کیا تھا ہم لوگوں نے دوڑ لگادی۔ اس سے پہلے کہ سیف کچھ سمجھ پاتا کہ چائے والے نے کہا، ہے بھائی پیسہ دے کر جانا۔ اب کیاتھا سیف کو چائے کا گھونٹ چرُیتے کی طرح لگنے لگا ،بہر کیف اس نے چائے پی، پیسہ دیا اورشام کو میرے روم پر آکر بولا اچھا نہیں کیے، اب تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ میں نے کہا پہلے پکڑو تو صحیح، وہ بولا ٹھیک ہے تم۔۔۔ابھی یہ بات چیت چل ہی رہی تھی کہ باشا آیا اور بولا کہ وہ کلام سر چائے پی رہے ہیں ۔پھر کیا تھا ہم جو ق در جوق ٹی پوائنٹ پہنچ گئے ۔ اور ایک طر ف پتھرپر اپنی اپنی مخصوص جگہ پرنوابی اندازمیں بیٹھ کراطمینان کے ساتھ چائے کا آرڈر دیے کہ سر لوگ تو ہیں ہی۔چائے پینے کے ساتھ ساتھ آپس میں خسر پھسر ہونے لگی کی اگر کلام سرنے پیسہ نہیں دیا تو کون دے گا۔ سیف کو بدلے کا موقعہ مل گیا، اس نے فرحت و انبساط بھرے لہجے میں کہا جرار،،،!میں نے کہا میں کیوں ؟اس نے کہا تو ہی سب کو لایا ہے ۔میں نے باشا کی طرف دیکھا وہ بولا ارے ان غریب لوگوں کی بات مت سن، کلام بڑا آدمی ہے رے دے دے گا۔میں نے ریاض بھائی سے کہا کہ جیسے ہی سر پیسہ دینے جائیں آپ جاکے سر کو بول دیجیے گا کہ ہم لوگوں نے بھی چائے پی ہے، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ۔ بہت دیر ہو گئی سر نسیم سر کے ساتھ گفتگو میں محو تھے ۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ یار آج کی چائے تو کافی مہنگی پڑ رہی ہے ۔کیا کیا جائے؟پھر اس بات پر سب نے اتفاق کیا کہ اگر پانچ منٹ میں سر نہیں اٹھتے ہیں تو ایک ایک چائے اور پی جائے گی اور بھگتان وہی لوگ کریں گے۔ ہماری بد قسمتی کہئے یا ان کی خوش نصیبی چار منٹ میں سر اٹھ گئے ۔ ہم نے ریاض بھائی سے کہا کہ یار جلدی جائیے اور سر کو بولیے، مگر وہ ہیں کہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں ۔ میں نے سوچاکہ اگر لیٹ کرتاہوں تو سر پیسہ دے کر چلے جائیں گے اور مجھے پیسہ دینا پڑے گا، سیف کی طرف دیکھا تو وہ فاتحانہ انداز میں مسکرارہا تھا کہ آج تو بدلہ لے لیا۔اس کی یہ مسکراہٹ مجھے چرائیتے سے بھی کڑوی لگی، پھر کیا تھا میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، دوڑ کے سر کے پاس گیا اور بولا سر ہم لوگوں نے بھی چائے پی ہے بولے ہاں ہاں بولو کتنی میں نے کہا دس۔ اس سے پہلے کہ وہ payment کر کے مجھ سے مخاطب ہوتے میں نے دوڑ لگادی اور سیدھا اپنے روم پر جاکے رکا۔تھوڑی دیر میں سب لوگ روم پر آگئے اور سیف سے مزہ لینے لگے یار جرار تو آج بھی بچ گیا۔ سیف شکست خوردہ لہجے میں بولا پھر کبھی۔۔۔

ایک مر تبہ چائے کے لیے میں دیر سے پہنچا یہ سیف کے لئے اچھا موقعہ تھا جیسے ہی میں بیٹھا سیف بولا چائے لے لو،میں نے کہا نہیں میں نہیں پیونگا۔ وہ زبردستی کرنے لگا میں نے کہا ہٹویار موڈ نہیں ہے ۔تو جھلا کر بولا جو چائے نہیں پیے گا پیسہ وہی دے گا۔ میں نے کہا یار یہ کونسی بات ہوئی تو بولا کہ No Objection اس دن تو مجھے سوچنے سمجھنے کا موقعہ بھی نہیں ملاتھا کہ آخر تم لوگ بھاگ کیو ں رہے ہو، خیر تم چائے پیویا پھر پیسہ دو ۔ میں نے سوچا اگر چائے نہیں پیتا ہوں تو پیسے مجھے ہی دینے پڑیں گے اور اگر پیتا ہوں تو یہ لوگ دوڑ کر بھا گ جائیں گے۔تھوڑی دیر بعد میں نے کہا اچھا لاؤ میں چائے پیونگا۔ میں نے دیکھاسب لوگ مسکرا رہے تھے ۔میں خاموش اور چوکناہوکر چائے پینے لگا۔ابھی میں نے آدھی ہی چائے پی تھی کہ سب لوگو ں نے چیتے کی طرح دوڑ لگادی ۔میں بھی پوری قوت کے ساتھ ہرن کی طرح جان بچا کر بھاگا ۔نتیجتا سب سے پہلے روم پر میں آگیاسب لوگوں نے جب مجھے روم پر دیکھا تو بولے پیسہ کس نے دیا؟ میں نے کہا میں کیا جانوں ؟ تو بولے یہ غلط بات ہے ۔ پیسہ تمہیں دینا تھا۔ میں نے کہا وہ کیوں ؟ تو بو لے اس دن سیف نے دیا تھا، میں نے کہا دوسری بات یہ کہ اس دن سیف بھاگ نہیں پایا تھا ۔ سیف بولا کہ پہلی بات ؟ میں نے کہا کہ تمہاری طرح ہزار بار ونڈو کا فائدہ میں نے نہیں اٹھایا ہے ۔ اب کیا تھا سب لوگ لڑنے لگے کہ تب پیسے کون دے گا؟ اب میں مسکرا رہا تھا اخیر میں یہ فیصلہ ہوا کہ چلو سب لوگ اپنا اپنا دیں میں نے کہا میرا پیسہ سیف سے لے لینا اور اس طرح سے چندہ کرکے چائے کا payment ہوا۔
ریسرچ اسکالر ، شعبۂ تعلیم و تربیت،مانو
9618783492

Friday, 27 October 2017

اب ہمیں راستہ نہیں ملتا Ab Hame Rasta Nhi Milta


اب ہمیں راستہ نہیں ملتا

جرار احمد،ریسرچ اسکالر، شعبۂ تعلیم و تربیت،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد(مانو)

jarrarurb@gmail.com...9618783492

ہندوستان میں خا صطور پر جب ہم مسلمانوں کی تعلیم کی طرف نظر کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ کی طرح ہمیں پیچھے ہی نظر آتے ہیں،اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ روز اول سے ہی یہ قوم پچھڑی ہے، بلکہ علم کاایسا سر چشمہ اس قوم سے پھوٹا، جس نے عرب کے ریگستانوں کو سیراب کیااور پوری دنیا پر علم و حکمت کو پھیلادیا۔مسلما نوں کا تعلیمی میدان میں پیچھے نظر آنا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ کئی دہائیاں گذر گئیں،ان کی حالت جوں کی توں ہے۔
حیرت ہے تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہواتھا
پہلے یہ بات تھی کہ مسلم اکثریت غریب ہے اور اب یہ بات ہے کہ ان کے ساتھ تعصب برتا جاتاہے، ان دونوں باتوں کی صداقت سے صرف نظر کرتے ہوئے کچھ ایسے نکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، جس سے مسلم تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں مدد ملے گی۔
جب ہم مسلم معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اس معاشرے کی اکثریت اور خاص کر متوسط طبقہ اپنی آل اولاد کی تعلیم کے تئیں اتنا سنجیدہ نہیں ہے جتنا کہ اسے ہونا چاہیے، اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ خود ناخواندہ ہیں، یا پھر مسلم طبقہ آج کے دور میں بھی تعلیم کی اہمیت سے واقف نہیں ہے، یا پھر فارغ البالی کی زندگی نے اسے بے پرواہ بنادیاہے، جس کے نتیجے میں اس طبقہ کے بچے تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں اور بس صرف نام کا اسکول آتے جاتے ہیں۔ ان کی اس روش سے نہ تو ان کے والدین کو کچھ فرق پڑتا ہے اور نہ ہی گھر کے کسی بہی خواہ کو۔ بچے کا اسکو ل میں داخلہ ہوگیا بس یہی کافی ہے، اکثر گارجین یہ سوچ کر اپنے بچوں کا داخلہ اسکول میں کراتے ہیں کہ فلاں نے بھی اپنے بچے کاداخلہ کرایا ہے۔ ان کا بچہ کیا پڑھتاہے، کتنا پڑھتاہے، پڑھنے میں کیسا ہے، اس کی دلچسپی کیا ہے، اس سے نہ تو والدین کو کچھ سروکار ہو تاہے اور نہ ہی اسکول کے ارباب مجاز کو، بس ہر کوئی اپنی اپنی فارمیلٹی پوری کر رہاہوتا ہے اور نتیجتا مسلم معاشرہ روز بروز تعلیمی پسماندگی کی اتھاہ گہرائی میں گرتا جارہاہے۔ اگر کچھ بچے تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہوتے بھی ہیں، تو ان کو مکمل طور سے گائڈ لائن صرف اس وجہ سے نہیں مل پاتی ہے کہ کوئی ایسا ذریعہ ان کے پاس نہیں ہے جس سے یا جہاں سے وہ رہنمائی حاصل کرسکیں،یا پھر بعض مجبوریوں کی بنا پر رہنمائی حاصل کرنا نہیں چاہتے ہیں، حالانکہ ان کو تو اس جذبے کے ساتھ آگے بڑھ چڑھ کر آنا چاہیے کہ   ’ہم نے دنیا کی رہنمائی کی‘ اورایک بار پھر کریں گے، مگر افسوس ان کے ذہن میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ ’اب ہمیں راستہ نہیں ملتا‘۔
زیادہ ترمسلم گارجین کی نظر کمائی پر ہوتی ہے کہ کب بچہ کمانا شروع کرے گا۔جلدی سے بڑا ہوجائے اور ہم اسے کمانے کے لیے باہر بھیج دیں،اگر بچے انٹرمیڈیٹ پا س کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیے باہر جانے کے خواہاں ہوتے ہیں، تو اکثر ان کے اہل خانہ یا پھر کوئی بہی خواہ یہ کہتا ہے کہ ارے باہر جاکر پڑھنے سے کیا ہوگا یہیں پڑھو،اگر وہ بچہ آرٹس کا ہو اور گریجویشن کے لیے باہر جانا چاہتا ہے، تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بی۔اے۔ کر کے کیا کروگے اور اگر کرناہی ہے تو باہر جاکر کرنے سے کیا فائدہ، یہیں سے کر لو ساتھ میں گھر کاکام کاج بھی دیکھنا، اس طرح سے کہہ کہہ کر لوگ اس کے حوصلے کو پست کردیتے ہیں، ایسے لوگوں سے میرا ایک سوال ہے کہ، جب اس بچے کو باہر بھیج کر کمانے کی بات آتی ہے تو تب یہی لوگ دن رات ایک کرکے اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ بس کسی طرح پاسپورٹ بن جائے، اس وقت یہ لوگ آخریہ کیوں نہیں کہتے باہر جاکر کمانے سے کیا ہوگا یہاں بھی تو کما یا جا سکتاہے، لیکن اس لالچی اور حرصی دنیا کے لوگ اپنی خواہشات کی تکمیل اور آسائش کی خاطر تب اس بات پر غور نہیں کرتے ہیں کہ جب وہ بچہ باہر جاکر زیادہ کما سکتا ہے تو باہر پڑھ کر زیادہ علم بھی حاصل کرسکتاہے۔مگر ان حرصی لوگو ں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، جن کی کتاب  میں علم پر زور دیا گیا جس کے نبی نے علم کی تاکید کی،وہی قوم اس کے تعلق سے بے پرواہ مال و دولت کی حرص میں ڈوبی ہے بقول شاعر۔۔
حرص و ہوا سے جس کو بچایا رسول نے بھٹکی ہوئی ہے قوم وہ اب خواہشات میں 

مسلم معاشرہ تعلیم کے میدان میں اس لیے بھی پیچھے ہے کہ جن گھرانوں میں تعلیم یافتہ افرادہیں ان کے اندر دوسروں کی رہنمائی کرنے کے جذبے کا فقدان ہے۔ وہ زیادہ تر اپنی تعلیمی صلاحیت کی دھونس جمانے اور شیخی بگھارنے میں رہتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے افراد کی بھی کمی ہے جو کہ تعلیم حاصل کررہے بچوں کی کچھ نہیں تو حوصلہ افزائی ہی کریں۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کی مسلم سماج میں خواندہ افراد کی کمی کی وجہ سے مسلم طلبا کو تعلیم کے تئیں راہ دکھانے والا کوئی نہیں مل پاتا، تو حوصلہ افزائی کرنے میں کون سی ڈگری کی ضرورت ہے آخر کیوں لوگ حوصلہ افزائی کرنے میں بخالت سے کام لیتے ہیں، جنگ میں جس طرح سے ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح سے تعلیم میں بھی، اگر لوگ اپنے بچوں کی رہنمائی نہیں کر سکتے تو کم سے کم ان کی ہمت اور حوصلے کو پروان چڑھائیں نہ یہ کہ اسے اور پست کریں۔
جب سے خلیجی ممالک جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مسلم معاشرے کی غربت کی شرح میں تھوڑی سی کمی آئی ہے مگر پھر بھی تعلیم کی اہمیت کے تئیں ناقص بیداری کی وجہ سے لوگ اعلی تعلیم سے راہ فرار اختیار کرنا بہتر سمجھتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کو زیادہ پڑھانے سے کیا فائدہ، جب اپنا ہی کام کرنا ہے تو پھر پیسہ کیوں خرچ کریں اور وقت کیوں برباد کریں،مگر وہ انجانے میں یہ دونوں چیزیں برباد کر رہے ہوتے ہیں مثلا آج کوئی بھی گھر ایسا نہیں ہوگا کہ جس گھر کا ایک فرد بھی فارن میں ہے تو اس گھر کے بچوں کے پاس اسمارٹ فون نہ ہو، ان میں سے اکثر لوگو ں کے گھروں میں فون کے ساتھ ساتھ بائک بھی ہے،چاہے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، نتیجتا ان کے گھر کے بچے جو ابھی عنفوان شباب میں ہوتے ہیں جن کی عمر ابھی اسکول اور مدرسے جانے کی ہوتی ہے زیادہ تر وقت موبائل اور شوآف میں صرف کرنے لگتے ہیں اور ان کا ذہن تعلیم سے دور ہوجاتا ہے۔ پہلے کی بہ نسبت اب کچھ علاقوں میں یہ سوچ بدلی ہے اور لوگ تعلیم کی طرف مائل ہو رہے ہیں مگر آج بھی گارجین پہلے کمانے کے بارے میں سوچتے ہیں، کمانے کے بارے میں سوچیں مگر اس حد تک نہیں کہ گذر بسر ہونے کے باوجود ذخیرہ اندوزی کے لیے بچوں کی تعلیم کا سودا کرلیں اور اسے پڑھانے کے بجائے کام پر لگادیں۔ایک دہائی گذر گئی اور اب بھی یہ سلسلہ زوروں پر ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو کمانے کے لیے خلیجی ممالک بھیجتے ہیں اور اس کے لیے گارجین اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ کب ان کا بچہ بالغ ہو اور اسے بدیس بھیجیں۔ بعض مرتبہ تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عمر بڑھواکر پاسپورٹ بنوا دیا جاتاہے اور عمر سے پہلے ہی بچے کو بالغ کر کے فارن بھیج دیا جاتا ہے،تاکہ بچہ جلدی سے کمائی کرکے پیسہ بھیجے جس سے گھر دوار بنے اور آرام ملے، گویا زندگی کا یہی نصب العین ہو کہ اچھا گھر ہو اور تما م آسائشو ں سے بھری زندگی ہو،اس طرح سے عارضی آسائش، دولت کی خاطر تعلیم بالائے طاق رکھ دی جاتی ہے اور مسلم معاشرے کے نونہالوں کا مستقبل تاریکی میں چلاجاتاہے، اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود بچوں کا بھی اب یہی ذہن بن گیا ہے کہ بڑے ہوکر باہر جانا ہے جس کی وجہ سے ان کا ذہن تعلیم سے اچاٹ ہوگیا ہے۔
آج مسلم معاشرہ اتنی غربت کا شکار نہیں ہے جتنا کہ پہلے تھا اور یہی وجہ ہے کہ بہت سارے مسلم بچے اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں کچھ گھر پر ہی اور کچھ گھر سے باہر دور دراز مقامات پر، مگر جو طلبا گھر سے دور ہیں ان کے گارجیں میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ میرا بیٹا باہر پڑھ رہاہے اسے وقت پر پیسہ بھیج دیاجا ئے بس وہی کافی ہے، جس کے پس پردہ وہی اسکول والی سوچ کار فرما ہو تی ہے کہ بس اسکول میں نام درج ہوگیا کافی ہے، اس کے بعد بچہ کیا کر رہاہے، کتنا پڑھ رہاہے، کتنی کامیابی حاصل کررہاہے ان سب کی گارجین کو کوئی فکر نہیں ہوتی، اس عدم دلچسپی کی وجہ سے طلبا  اپنی تعلیم کی طرف کما حقہ توجہ مرکوز نہیں کرپاتے، کیوں کہ ان کے اندر بازپرس کا کچھ خوف ہی نہیں ہوتا ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ گھروالوں کو ان سب کے بارے میں کیا پتا، اور صرف کسی طرح سے کرکے امتحان پا س کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اندر صلاحیت و قابلیت کا فقدان ہوتاہے اور نتیجتا انہیں نوکری ملنا دشوار ہوجاتا ہے، جس سے معاشرے میں غلط پیغام جاتاہے اور لوگ کہتے ہیں زیادہ پڑھنے سے کیا فائدہ دیکھو فلاں کا لڑکا اتنا پڑھنے کے باوجود بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہاہے اور نوکری نہیں مل رہی ہے، کوئی بھی شخص اس بات پر غور نہیں کرے گا کہ اتنا پڑھنے کے بعد بھی اس کے اند ر کتنی صلاحیت ہے، آیا ہے بھی کہ نہیں، آخر کیوں اسے نوکری نہیں مل رہی ہے، اس بات پر غور کرنے کے بجائے لوگ کمانے کے لیے قائل کرنے کی خاطر سیدھے سیدھے یہی کہیں گے کہ پڑھنے سے کیا فائدہ آخر پھر بعد میں اپناہی کام کرناہے تو پھر ابھی سے کیوں نہیں اور یہی سوچ اس معاشرے کو اندھیرے میں ڈھکیل رہی ہے۔
کچھ طلبا اپنے کورس کے تئیں یہ سوچتے ہیں کہ ان کے کورس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اگر وہ فلاں کورس کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا،ان کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ہر میدان، ہر شعبے کے Creamyلوگوں کو منتخب کر لیاجاتاہے اور ان کے لیے جاب زیادہ مسئلہ نہیں ہوتی ہے، اس بات کے پیش نظر  ہمارے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ چاہے جس شعبے میں ہم رہیں اتنی محنت سے پڑھیں کہ ہمارا شمار کریمی لوگوں میں ہو اور پھر اچھا مقام حاصل کرکے اپنے معاشر ے کو ایک مثبت پیغام دیں تاکہ دوسرے گارجین کو ترغیب ملے اور وہ لوگ بھی اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے سینہ سپر ہوں۔مگر اس ذیل میں سب سے پہلی ذمے داری ہمارے والدین اور گارجین کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ کراکے ایسے ہی نہ چھوڑدیں بلکہ ان میں اور ان کی تعلیم میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے رہیں اور ساتھ ہی ان کی رہنمائی بھی کرتے رہیں تاکہ وہ بہکنے نہ پائیں، اور طلبا بھی پوری ایمانداری کے ساتھ محنت و لگن سے پڑھائی کریں اور اپنی ذمے داری کا حق ادا کرکے یہ ثابت کردیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کوئی نااہل نہیں ہوتاہے، اس طرح سے ہم اپنے معاشرے کی تعلیمی پسماندگی دور کر تعلیم کی روشنی سے پوری دنیا کو راستہ دکھا سکتے ہیں۔