Sunday, 20 May 2018

اچھے ماحول کی برکتیں

اچھے ماحول کی برکتیں

نوٹ: یہ مضمون بچوں کی دنیا شمارہ اپریل2018 میں شائع ہو چکا ہے

پیارے بچوں۔! آج ہم آپ کو اچھے ماحول کی برکتوں میں سے ایک بڑی اچھی اور پیاری برکت کے بارے میں بتائیں گے۔
ایک شہر میں ایک ایسا گھر تھا جو کل چھ ۶ افراد پر مشتمل تھا، جو نہ بہت غریب اور نہ بہت امیر بلکہ اس گھر کے لوگ بیچ کی زندگی بسر کررہے تھے۔ اس گھر کے سربراہ اکثر بیمار رہا کرتے تھے ۔ ان میں سے ایک کا اچانک کسی بیماری کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔شاید اللہ کی یہی مرضی تھی، کیوں کہ گھر والوں نے علاج میں کوئی کسر باقی نہیں لگائی تھی۔ اب ان کی اہلیہ اکیلی ہوگئی تھیں اور وہ بھی بیمار رہا کرتی تھیں، ان کے علاج کے لیے بھی گھر والوں نے سب کچھ کیا دوا ،دعا، تعویذ گنڈا مگر بیماری تھی کی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ گھر والے علاج سے صرف اس لیے مطمئن تھے کی ان کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جارہی ہے اور ان کو اس بات کا فخر بھی تھا کہ ہم نے علاج میں کوئی کمی نہیں کی ۔ بس پریشانی اس بات کی تھی کہ مرض کی تشخیص نہیں ہو پارہی تھی۔ کوئی ڈاکٹر کچھ کہتا تو کوئی کچھ اور سب ڈاکٹر اپنے اپنے حساب سے اندھیرے اور اجالے میں اپنی دواؤو ں کے تیر چلادیتے تھے۔
بالآخر عاجز آکر ایک دن اس گھر کے لوگ ایک بزرگ حکیم کے پاس گئے اور تمام تفصیلات دست بستہ ان کو سناکر پوچھا آخر کون سی بیماری ہے کہ پتہ نہیں چل پا رہاہے اور کوئی بھی دوا کام نہیں کررہی ہے؟ وہ بزرگ مسکرائے اور بولے دوا تو کسی حدتک سب ٹھیک ہی چل رہی ہے مگر بیماری ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے۔ دوا تین وقت کھاتی ہیں مگر بیماری ہر وقت ان کو ڈنک ماررہی ہوتی ہے ۔ اتنا کہہ کر وہ بزرگ حکیم خاموش ہوگئے ۔ بڑی منت سماجت کے بعد بزرگ نے بتایا کہ بیماری تم لوگ خود ہو جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے ہو ۔ کہنے کو تو تم لوگ ان کی آل اولا دہو مگر درحقیقت مرض بن کر اپنے جراثیم ہر وقت ان پر چھڑکتے رہتے ہو ۔اتنا سننا تھا کہ وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے اور بولے کہ کیا بات کرتے ہیں ۔آپ کو شاید پتہ نہیں کہ ان کے علاج میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس بات کے گواہ ہمارے شہر کے لوگ بھی ہیں۔ آپ ہیں کہ نہ جانے کیا الول جلول بات کر رہے ہیں اور سراسر ا لزام ہمیں کو دے رہے ہیں۔ بزرگ حکیم متانت سے مسکراتے ہوئے بولے، یہی غصہ جو تم ابھی مجھ پر دکھار ہے ہو ان کی بیماری کی اصل وجہ ہے ۔ کیا صرف دوا کردینا ہی کافی ہے ؟ کیا صرف دوا سے ہی علاج ہوتاہے؟ کیا یہی والدین کی خدمت ہے ؟ ہرگزنہیں ۔!کتنی بیماریاں تو صرف خوش مزاجی اور اچھے ماحول سے ختم ہوجاتی ہیں ۔ کیا تم لوگوں نے کبھی ان کو خوشگوار ماحول فراہم کیا؟ حکیم کے اس سوال پر سب لوگ محو حیرت تھے ۔ پھر حکیم نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم میں کا ہرکوئی کسی نہ کسی دن اس بات پر ناراض ہوجاتاہے کہ آج اس کے من پسند کا کھانا نہیں پکا؟ یا پھر کھانے میں نمک یا مرچ زیادہ ہوگئی؟کیا یہ جھوٹ ہے کہ گھرمیں تم لوگ ایک دوسرے پر چھوٹی چھوٹی بات کے لیے ناراض ہوجاتے ہو؟ سب پر سکتے کا عالم طاری تھا ۔ حکیم صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم سوچتے ہوکہ تم اپنا یہ غصہ تو کھانا بنانے والے پر یا کسی اور پر دکھارہے ہو مگر یاد رکھو والدین پر وہ بھی جب وہ عمررسیدہ ہوجاتے ہیں تو بہت ہی گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کوئی دوا کھاتے ہیں تو اثر نہیں کرتی ہے کیوں کہ تم لوگ ایک دوسرا بکھیڑا کھڑا کردیتے ہو۔ یاد رکھو صرف اچھے سے اچھا علاج کرادینا ہی کافی نہیں ۔ اگر کچھ کرنا چاہ رہے ہو تو دوا کے ساتھ ان کو اچھااور خوشگوار ماحول بھی فراہم کرو۔ ان کی خوشی کے لیے بلکہ ان کے علاج کا ایک حصہ سمجھ کر ان پر کبھی بھی غصہ کیا ’اُف‘تک نہ کہو اور نہ ہی ان کے سامنے کسی اور پر غصہ کرو۔ جہاں تک ہو سکے ان کے سامنے ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہو ، خود خوش رہوگے تو وہ بھی خوش رہیں گے اور اس کے بعد علاج کروگے تو وہ بھی فائدہ مند ہوگا۔ بزر گ کی ان باتوں سے وہ لوگ بہت متأثرہوئے اور اپنے عمل پر تائب بھی ہوئے اور کہا کہ اگر آج آپ نے ہماری آنکھیں نہیں کھولی ہوتیں تو زندگی بھر ہم اسی خوش فہمی میں رہتے اور فخر کرتے کہ ہم نے اچھے سے اچھا علاج کیا اور کوئی کوتاہی نہیں کی ، مگر آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آپ کی بتائی ہوئی تمام باتوں پر عمل کریں گے اور دوا کے ساتھ ساتھ خوشگوار ماحول بھی فراہم کریں گے۔
تو پیارے بچو آپ بھی وعدہ کریں کہ اپنے امی ابو کی باتوں سے ناراض ہوکر کبھی کوئی غلط کام نہیں کریں گے اور نہ ہی ان پر ناراض ہوں گے اور نہ ہی ان کے سامنے کسی اورپر ناراضگی کا اظہار کریں گے بلکہ آپ بھی اپنے گھر کا ماحول خوشگوار بنائیں گے۔یقیناًیہ ایک بہت بڑی اور ایسی نعمت ہے جس کی بے پناہ برکتیں ہیں۔
جراراحمد
ریسر چ اسکالر
شعبۂ تعلیم و تربیت
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی، حیدرآباد
jarrarurb.rs@manuu.edu.in